کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 81
نکتہ: اس آیت کریمہ کے مطابق جب اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو صرف چاہنے پر عدم قبولیت اور خسارے میں پڑنا ہے ، تو دین اسلام کو چھوڑ کر کسی اور دین کو معاذ اللہ قبول کرنے پر انجام کس قدر سنگین اور بُرا ہوگا؟ اسی بارے میں قاضی ابوسعود لکھتے ہیں: ’’صرف چاہنے کی بنا پر عدم قبولیت اور خسارے کا ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے، کہ اسلام کے سوا کسی اور دین کا اختیار کرنا اور اس پر مطمئن ہونا بہت ہی سنگین اور برا ہے۔‘‘[1] د: حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ : امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے، کہ یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ! لَا یَسْمَعُ بِيْ أَحَدٌ مِنْ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ یَہُوْدِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ یَمُوْتُ، وَلَمْ یُوْمِنْ بِالَّذِیْ أُرْسِلْتُ بِہِ إِلَّا کَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ۔‘‘[2] ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس امت میں سے کوئی یہودی اور نصرانی میرے بارے میں نہیں سنتا، پھر وہ اس [دین] پر ایمان لائے بغیر مرجائے، جس کے ساتھ مجھے مبعوث کیا گیا، مگر وہ دوزخ والوں میں سے ہوگا۔‘‘ اس حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر بیان فرمایا، کہ آپ کی [1] تفسیر أبي السعود ۲/۵۵۔ [2] صحیح مسلم، کتاب الإیمان، رقم الحدیث ۱۴۰۔ (۱۵۳)، ۱/۱۳۴۔