کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 74
قاضی ابوسعود آیت شریفہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’کہ تمہیں لوگوں کے نفع اور مصلحت کے لیے نکالا گیا ہے۔‘‘[1] مولانا شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں: ’’ایمان و عمل و تقویٰ کی تمام شاخیں اس کی محنت اور قربانیوں سے سرسبز و شاداب ہوں گی۔ وہ کسی خاص قوم و نسب یا مخصوص ملک و اقلیم میں محصور نہ ہوگی، بلکہ اس کا دائرہ عمل سارے عالم کو اور انسانی زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہوگا، گویا اس کا وجود ہی اس لیے ہوگا، کہ دوسروں کی خیر خواہی کرے اور جہاں تک ممکن ہو انہیں جنت کے دروازوں پر لا کر کھڑا کردے۔ (اُخْرِجَتْ لِلنَّاس) میں اسی طرف اشارہ ہے۔‘‘[2] ب: ارشاد ربانی: {وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَیالنَّاسِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا}[3] [اور (مسلمانو! جس طرح یہ بات ہوئی، کہ بیت المقدس کی جگہ خانہ کعبہ قبلہ قرار پایا) اسی طرح یہ بات بھی ہوئی، کہ ہم نے تمہیں ’’نیک ترین امت ہونے کا درجہ عطا فرمایا، تاکہ تمام انسانوں کے لیے (سچائی کی) گواہی دینے والے ہو اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول گواہی دینے والے ہوں] شیخ قاسمی آیت شریفہ (کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) کی تفسیر میں لکھتے ہیں: [1] تفسیر أبي السعود ۲/۷۰۔ [2] تفسیر عثمانی ۱؍۲۱۶، ف ۱۶۴۔ [3] سورۃ البقرۃ / جزء من الآیۃ ۱۴۳۔