کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 66
آیت شریفہ کی تفسیر میں علامہ قرطبی لکھتے ہیں: ’’(وَخَاتَم) صرف عاصم نے [تا] کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور اس سے مراد یہ ہے، کہ ان [یعنی انبیاء علیہم السلام ] کا سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ختم ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے مہر کی مانند ہیں ، جمہور نے [تا] کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور معنی یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سلسلے کو ختم کیا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے آخر میں تشریف لائے ہیں۔‘‘[1] علامہ ابن عطیہ اندلسی تحریر کرتے ہیں: ’’متقدمین اور متأخرین علماء کی ایک جماعت نے ان الفاظ کو عموم تام کے معنوں میں لیا ہے، جو کہ قطعی طور پر اس بات کا تقاضا کرتے ہیں، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اور کوئی نبی نہیں۔‘‘[2] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النّبیین ہونے کی حکمت بیان کرتے ہوئے شیخ قاسمی قلم بند کرتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سلسلہ نبوت کو ختم کیا گیا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی شریعت عطا کی گئی، جو ہر زمانے اور ہر جگہ کے لوگوں کی مصلحتوں کو پورا کرتی ہے، کیونکہ قرآن کریم نے کسی بھی بنیادی مصلحت کو اجاگر کئے بغیر اور کسی بھی بنیادی فضیلت کی بات کو اس کا احیاء کئے بغیر نہ چھوڑا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے لے کر قیامت تک آنے والے ہر مدعی نبوت کی ناکامی اس بات کی صداقت کا ثبوت ہے۔[3] ب: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’لِيْ خَمْسَۃُ أَسْمَائٍ : أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِيْ الَّذِيْ یَمْحُوْ اللّٰہُ بِيَ الْکُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِيْ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی [1] تفسیر القرطبي ۱۴/۱۹۶؛ نیز ملاحظہ ہو: تفسیر البیضاوي ۲/۲۴۷؛ وتفسیر القاسمي ۱۳/۲۶۶۔ [2] المحرَّر الوجیز ۱۳/۸۰۔ [3] ملاحظہ ہو: تفسیر القاسمي ۱۳/۳۶۶۔