کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 63
’’ھٰذِہِ الْآیَۃِ وَأَمْثَالُہَا مِنْ أَصْرَحِ الدَّلَالَاتِ عَلٰی عَمُوْمِ بِعْثَتِہِ صَلَوَاتُ اللّٰہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ إِلٰی جَمِیْعِ الْخَلْقِ کَمَا ھُوَ مَعْلُوْمٌ مِنْ دِیْنِہِ ضَرُوْرَۃً، وَکَمَادَلَّ عَلَیْہِ الْکِتَابُ وَالسُّنَّۃُ فِيْ غَیْرِ مَا آیَۃٍ وَحَدِیْثٍ‘‘[1] ’’یہ اور اسی قسم کی (دیگر) آیات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام مخلوق کی طرف عمومی بعثت کے واضح ترین دلائل میں سے ہیں، جو کہ بلاشک و شبہ دین میں معروف بات ہے اور کتاب و سنت کی متعدد آیات و احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں۔‘‘ ج: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَ لَوْ اٰمَنَ اَہْلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ مِنْہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَکْثَرُہُمُ الْفٰسِقُوْنَ}[2] [اگر اہل کتاب ایمان لے آتے، تو ان کے لیے بہتر تھا۔ ان میں سے (کچھ) ایمان والے ہیں اور ان کے اکثر نافرمان ہیں]۔ حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر میں تحریر کرتے ہیں: ’’{وَ لَوْ اٰمَنَ اَہْلُ الْکِتٰبِ} [اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے] یعنی اس چیز پر جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی {لَکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ مِنْہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَکْثَرُہُمُ الْفٰسِقُوْنَ} [تو ان کے لیے بہتر تھا۔ ان میں سے (کچھ) ایمان والے ہیں اور ان کے اکثر نافرمان ہیں] یعنی اللہ تعالیٰ اور اس [چیز]کے ساتھ، جو تمہاری طرف نازل کی گئی اور اس کے ساتھ جو ان کی طرف نازل کی گئی ایمان لانے والے تھوڑے ہیں اور ان کی اکثریت گمراہی، کفر، فسق اور [1] تفسیر ابن کثیر ۱/۳۸۰؛ نیز ملاحظہ ہو: تفسیر القاسمي ۴/۷۰۔ [2] سورۃ آل عمران / جزء من الآیۃ ۱۱۰۔