کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 60
و: ارشاد ربانی: {قُلْ یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّمَآ اَنَالَکُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ}[1] [کہہ دیجیئے: اے لوگو! میں تو بس تمہارے لیے کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں]۔ ز: ارشاد ربانی: { ٰٓیاََیُّہَا النَّاسُ اِِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْاط اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْط اِِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ} [2] [اے لوگو! بے شک ہم نے تمہیں ایک مرد [آدم علیہ السلام ] اور ایک عورت [حواء رحمہ اللہ ] سے پیدا کیا ہے اور ہم نے تمہیں قومیں اور قبیلے بنا دیا (یعنی ان میں بانٹ دیا)، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سے سب سے عزت والا وہ ہے، جو تم میں سے سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔ یقینا اللہ تعالیٰ خوب جاننے والے خوب خبر رکھنے والے ہیں]۔ (۵) قرآن کریم کا اہل کتاب کو دعوتِ اسلام دینا قرآن کریم کی متعدد آیات شریفہ میں یہود و نصاریٰ کو دعوتِ اسلام دی گئی ہے، جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں: ا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {یٰبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَہْدِیْٓ اُوْفِ بِعَہْدِکُمْ وَ اِیَّایَ فَارْہَبُوْنِ۔ وَ اٰمِنُوْا بِمَآ [1] سورۃ الحج / الآیۃ ۴۹۔ [2] سورۃ الحجرات / الآیۃ ۱۳۔