کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 216
اس نے استفسار کیا: ’’وہ کس طرح ان کا سردار بن گیا؟‘‘ میں نے جواب دیا: ’’دین داری اور (احادیث شریفہ) روایت کرنے کی وجہ سے۔‘‘ اس نے کہا: ’’سیادت دین داروں اور (احادیث) روایت کرنے والوں ہی کو زیبا ہے۔‘‘ (پھر) اس نے پوچھا: ’’اہل یمن کی سرداری کس کے پاس ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’طاؤس بن کیسان (کے پاس)۔‘‘ اس نے کہا: ’’عرب سے ہے یا عجم سے؟‘‘ میں نے بتلایا: ’’عجم سے ہے۔‘‘ اس نے پوچھا: ’’اس کی سیادت کا راز کیا ہے؟‘‘ میں نے جواب دیا: ’’وہی، جو عطاء کی (سیادت کا راز تھا)۔‘‘ اس نے کہا: ’’بلاشبہ وہ ہی اس کے لیے موزوں ہے۔‘‘ (پھر) اس نے پوچھا: ’’اہل مصر کی سرداری کس کے ہاتھ میں ہے؟‘‘ انہوں نے بیان کیا: ’’میں نے کہا: ’’یزید بن ابی حبیب (کے پاس)۔‘‘ اس نے کہا: ’’عربوں میں سے ہے یا عجمیوں میں سے؟‘‘ میں نے کہا: ’’عجم سے ہے۔‘‘ (پھر) اس نے پوچھا: ’’اہل شام کی قیادت کس کے پاس ہے؟‘‘ انہوں نے بیان کیا: میں نے کہا: ’’مکحول (کے پاس)۔‘‘ اس نے پوچھا: ’’عربوں میں سے ہے یا عجمیوں میں سے۔‘‘ میں نے بتلایا: ’’عجمیوں میں سے ہے۔ وہ نوبی [1] غلام ہے، جس کو ہذیل [1] نوبہ کا رہنے والا اور نوبہ ساحل نیل پر اسوان اور دنقلہ کا درمیانی افریقی علاقہ ہے۔ (ملاحظہ ہو: المنجد في الأعلام ص ۷۱۵)۔