کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 214
اور بچوں کو زندہ دفن کرنا، جو کہ ایک زمانے میں تمام افریقہ میں پھیلی ہوئی تھیں، اور اب بھی افریقہ کے بعض حصوں میں گولڈ کرست اور انگریزی نو آبادیوں کے قریب پائی جاتی ہیں، اشاعت اسلام کے بعد ہمیشہ کے لیے فوراً موقوف ہوجاتی ہیں۔ وہ لوگ جو اب تک برہنگی یا نیم برہنگی کی حالت میں رہتے تھے، صاف ستھرے کپڑے پہننے شروع کردیتے ہیں اور وہ دیسی باشندے جو پہلے کبھی نہانا نہیں جانتے تھے، اب بار بار نہاتے ہیں اور ہاتھ منہ دھوتے ہیں، کیونکہ اسلامی شریعت نے وضو اور غسل کا حکم دے رکھا ہے۔‘‘[1] غیر عرب دنیا کی اسلام، عربی زبان، اسلامی تہذیب سے اس قدر گہری وابستگی، دلچسپی اور تعلق کے بعد کیا یہ کہنا قرین انصاف ہے، کہ یہ دین صرف عرب کے لیے مخصوص تھا؟ III: غیر عربی مسلمانوں نے اسلامی علوم کی اس قدر خدمت کی، کہ عربوں پر سبقت لے گئے۔ علم تفسیر میں حضرات ائمہ ابن جریر الطبری، ابن العربی، ابن عطیہ، القرطبی، ابو حیان، علم حدیث میں حضرات ائمہ بخاری، ابوداود، ترمذی، نسائی،ابن ماجہ، ابن خزیمہ، ابن حبان، خطابی، حاکم، ابن عبد البر، القرطبی، علم نحو میں حضرات ائمہ سیبویہ، فارسی، زجاج، یہ سب لوگ غیر عربی ہی تو تھے۔ یہ حضرات اور ان ایسے علوم کی خدمت کرنے والے سینکڑوں علماء و افاضل کے صدیاں گزرنے کے باوجود باقی رہنے والے شاہکار، کیا اس بات کا منہ بولتا ثبوت نہیں ہیں، کہ انہوں نے اسلام کو عربوں کا مخصوص دین نہ سمجھا اور نہ پایا، بلکہ اس کو اپنا دین سمجھا اور پایا اور اس کی اور اس کے مختلف علوم کی بے مثال خدمت کی۔ علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری نے اپنی شہرہ آفاق کتاب [تحفۃ الأحوذی شرح جامع [1] دعوتِ اسلام ص ۳۴۶۔