کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 212
’’اب عیسائیوں میں ایسے ذی علم کہاں ہیں، جو مقدس کتابیں پڑھنے میں انہماک رکھتے ہوں اور لاطینی علمائے دین کی کتابوں پر نگاہ ڈالنے کی پروا کرتے ہوں؟ کون ہے، جو انجیلوں یا انبیاء اور رسولوں کی کتابوں کو پڑھنے کا شوق رکھتا ہو۔ ہمارے عیسائی نوجوان جو اطوار کی شستگی اور چرب زبانی سے متصف ہیں، اپنے لباس اور چال ڈھال کی نمائش کرتے ہیں، اور مسلمانوں کے علوم میں شہرت رکھتے ہیں۔ وہ عربی بلاغت کے نشے میں سرشار ہیں اور مسلمانوں کی کتابوں کو اٹھاتے اور بڑے ذوق و شوق سے پڑھتے ہیں اور ان پر بحث کرتے ہیں اور ان کی تعریف و توصیف میں علم خطابت کے سارے صنائع و بدائع صرف کردیتے ہیں اور ان کا خوب چرچا کرتے ہیں، لیکن وہ کلیسا کی کتابوں کی خوبیوں سے قطعاً ناآشنا ہیں اور کلیسا کے چشموں کو، جن کا منبع بہشت ہے، حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ افسوس! عیسائی لوگ اپنی شریعت سے ایسے ناواقف ہیں اور لاطینی لوگ اپنی زبان سے ایسے بے پروا ہوگئے ہیں، کہ تمام عیسائی امت میں ہزار اشخاص میں سے بمشکل ایک شخص ایسا ملے گا، جو لاطینی زبان میں اپنے کسی دوست کو مزاج پرسی کا ایک خط بھی لکھ سکے، البتہ ایسے عیسائی بے شمار ہیں، جو عربی زبان کے رنگین جملے بڑے طمطراق سے بولتے ہیں، بلکہ وہ نظم بھی لکھ سکتے ہیں، جس کا ہر شعر ردیف کے ایک ہی حرف پر ختم ہوتا ہے۔ اس میں ان کے حسن خیال کی اعلیٰ پرواز کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کے لکھنے میں وہ عربوں سے بھی بڑھ کر وزن اور بحر کی پابندی کرتے ہیں۔‘‘[1] [1] دعوت اسلام صفحات ۱۴۳۔۱۴۴۔