کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 199
حالات کچھ بھی ہوں، کسی انسان کو غیر اللہ کی عبادت کی اجازت نہیں اور ہر شخص اس بات کا پابند ہے، کہ وہ اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے اس کامل اور مفصل ضابطہ حیات کے مطابق بسر کرے، جو دینِ اسلام کی شکل میں آیا۔ جس کسی کو بھی اللہ تعالیٰ (کے دین) کی دعوت پہنچ گئی اور اس کو اسلامی شریعت کی خبر ہوگئی، وہ اس کا پابند ہے، خواہ وہ شہری ہو یا بادیہ نشین۔[1]  [1] ملاحظہ ہو: فقہ الدعوۃ إلی اللّٰه تعالیٰ ۲/۹۴۳۔