کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 187
سے بہتر ہوگا۔ دوسرا معنی یہ ہے، کہ دو آیتوں کا سکھلانا یا پڑھنا، دو اونٹنیوں اور اتنی ہی تعداد میں اونٹوں سے بہتر ہے، یعنی دو اونٹنیوں اور دو اونٹوں سے بہتر ہے، تین آیات کا سکھلانا یا پڑھنا تین اونٹنیوں اور تین اونٹوں سے بہتر ہے، چار آیات کا سکھلانا یا پڑھنا چار اونٹنیوں اور چار اونٹوں سے بہتر ہے۔ اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں آکر قرآنِ کریم پڑھنے پڑھانے کی فضیلت بیان فرما کر اصحاب صفہ کو اس کی ترغیب دی ۔ حدیث سے معلوم ہونے والی دیگر تین باتیں: ۱: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں آکر قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کی فضیلت بیان کرنے کے لیے اسلوب استفہام اختیار فرمایا، تاکہ سامعین بتلائی جانے والی بات کی طرف خوب متوجہ ہوجائیں۔[1] ۲: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے ثواب کو ایک مثال سے بیان فرمایا اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے، کہ انسانی نفوس مثالوں سے نسبتاً زیادہ مانوس ہوتے ہیں اور بیان کردہ بات کو زیادہ قبول کرتے ہیں۔ [2] ۳: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال کے انتخاب میں مخاطب لوگوں کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسی مثال بیان فرمائی، کہ اس کے عناصر ان کے ماحول میں موجود تھے اور وہ اس سے خوب آشنا تھے۔[3] ب: فقراء کے لیے بشارت: امام ابن ماجہ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، [1] اس بارے میں تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: کتاب ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم‘‘ صفحات ۲۱۴۔۲۲۱۔ [2] اس بارے میں تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ’’إعلام الموقعین‘‘ ۱/۲۳۹۔۲۴۰؛ اور ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم‘‘ صفحات ۱۸۶ ۔۱۸۷۔ [3] اس بارے میں تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: المرجع السابق صفحات ۳۷۵۔۳۹۳۔