کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 186
’’أَیُکُمْ یُحِبُّ أَنْ یَغْدُوَ کُلَّ یَوْمٍ إِلٰی بُطْحَانَ أَو الْعَقِیْقِ فَیَأْتِیَ بِنَاقَتَیْنِ کَوْمَا وَیْنِ فِيْ غَیْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ؟‘‘ ’’تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے، کہ وہ ہر روز (وادی) بطحان یا (وادی) عقیق میں جائے اور وہاں سے دو اونچی کوہان والی اونٹنیاں گناہ اور قطع رحمی کے بغیر لے آئے۔‘‘ ہم نے عرض کیا: ’’یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! نُحِبُّ ذٰلِکَ۔‘‘ ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس کو پسند کرتے ہیں۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَفَلَا یَغْدُوْ أَحَدُکُمْ إِلَی الْمَْسِجِد فَیُعَلِّمُ أَوْ یَقْرَأُ آیَتَیْنِ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ خَیْرٌ لَہُ مِنْ نَاقَتَیْنِ، وَثَلَاثٌ خَیْرٌ لَہُ مِنْ ثَلَاثٍ، وَأَرْبَعٌ خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَرْبَعٍ، وَمِنْ أَعْدَادِھِنَّ مِنَ الْإِبْلِ۔‘‘[1] [’’تم میں سے ایک مسجد کی طرف جاکر اللہ عزوجل کی کتاب کی دو آیتیں سکھاتا یا پڑھتا کیوں نہیں؟ (یہ) اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور تین (آیات) کا (سکھلانا یا پڑھنا) تین سے بہتر ہے اور چار کا چار سے بہتر ہے اور اتنی ہی تعداد میں اونٹوں سے بہتر ہے۔‘‘] حدیث شریف کے الفاظ (اور اتنی ہی تعداد میں اونٹوں سے بہتر ہے) کے محدثین کرام نے دو معانی بیان کئے ہیں۔ ایک معنی یہ ہے، کہ مسجد میں جاکر جس قدر آیات سکھلائی یا پڑھی جائیں گی، وہ اتنی ہی تعداد میں اونٹوں کے حاصل کرنے [1] صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب فضل قراء ۃ القرآن في الصلاۃ وتعلّمہ، رقم الحدیث ۲۵۱ ۔ (۸۰۳)، ۱/۵۵۲۔