کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 183
’’یَا مَعْشَرَ التُّجَارَ! إِنَّ ھٰذَا الْبَیْعَ یَحْضُرُہُ الْکَذِبُ وَالْیَمِیْنُ، فَشُوْبُوْہُ بِالصَّدَقَۃِ۔‘‘[1] ہم لوگوں کو ’’دلال‘‘ کا نام دیا جاتا تھا اور ہم بقیع کے مقام پر کاروبار کرتے تھے۔ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمیں ہمارے [سابقہ] نام سے بہتر نام عطا فرمایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے تاجرو! بے شک اس کاروبار میں جھوٹ اور قسم شامل ہوجاتی ہے، لہٰذا تم اس کے ساتھ صدقہ ملا لیا کرو (یعنی صدقہ خیرات کرلیا کرو)۔ حدیث سے معلوم ہونے والی پانچ باتیں: ۱: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بازار میں دعوتِ دین دینا۔ ۲: مخاطب لوگوں کو اچھے لقب سے پکارنا، کہ اس سے ان کے توجہ اور دھیان سے بات کو سننے اور اس کو قبول کرنے کے امکانات میں اضافہ کی توقع ہوتی ہے۔ ۳: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مخاطب لوگوں کے مناسب حال موضوع کے متعلق گفتگو فرمائی۔ [1] المسند، رقم الحدیث ۱۶۱۳۴، ۲۶/۵۶؛ وسنن أبي داود، کتاب البیوع، باب في التجارۃ یخالطہا الحلف واللغو، رقم الحدیث ۲۳۲۴، ۷/۱۲۴؛ وسنن النسائي، کتاب الأیمان والنذور، فی الحلف والیمین لمن یعتقد الیمین بقلبہ، ۷/۱۴؛ وسنن ابن ماجہ، أبواب التجارات، التوقي في التجارۃ، رقم الحدیث ۲۱۶۱، ۲/۱۶؛ والمستدرک علی الصحیحین، کتاب البیوع ۲/۱۵۔ الفاظِ حدیث المستدرک کے ہیں۔ امام حاکم نے اس کی [سند کو صحیح] کہا ہے؛ حافظ ذہبی نے ان سے موافقت کی ہے اور شیخ البانی نے اس کو [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المستدرک ۲/۱۵؛ والتلخیص ۲/۱۵؛ وصحیح الجامع الصغیر وزیادتہ، رقم الحدیث ۷۸۵۱۔۳۵۳۹، ۶/۳۰۵؛ وصحیح سنن أبي داود ۲/۶۴۰؛ وصحیح سنن النسائي ۳/۹۳۰؛ وصحیح سنن ابن ماجہ ۲/۶)۔