کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 177
۲: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علت احتساب[1]بھی بیان فرما دی، کہ بخار گناہوں کو ختم کرنے کی بنا پر برا بھلا کہنے کا مستحق نہیں۔ ۳: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بخار کے گناہوں کو ختم کرنے کو مثال سے واضح فرمایا۔ (۱۴) مصیبت زدہ لوگوں کو تلقین صبر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دکھی اور رنجیدہ لوگوں کو حوصلہ دیتے اور انہیں صبر کی تلقین فرماتے۔ توفیق الٰہی سے اس سلسلے میں ذیل میں دو واقعات پیش کئے جارہے ہیں: ا: ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو شوہر کی وفات پر تلقین صبر: امام مسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، تو میں نے کہا: ’’غَرِیْبٌ، وَفِيْ أَرْضِ غُرْبَۃٍ، لَأَبْکِیَنَّہُ بُکَائً یُتَحَدَّثُ عَنْہُ۔‘‘[2] ’’پردیسی، پردیس ہی میں (چل بسے)، میں ضرور ان پر ایسا روؤں گی، کہ اس کو بیان کیا جائے گا۔ [1] یعنی ام السائب یا ام المسیب کو اپنے ٹوکنے کی وجہ اور سبب۔ نوٹ: اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ام العلاء رضی اللہ عنہا کی عیادت کے وقت مسلمان کی بیماری کی فضیلت کو بیان فرمایا۔ (ملاحظہ ہو: سنن أبي داود، کتاب الجنائز، باب عیادۃ النساء، رقم الحدیث ۳۰۹۰، ۸/۲۴۶)؛ اور شیخ البانی نے اس کو [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود ۲/۵۹۷)۔ [2] ان کا مقصود یہ تھا، کہ وہ ان پر شدید نوحہ کریں گی۔ (ملاحظہ ہو: المفہم ۲/۵۷۴)۔