کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 175
انہوں نے کہا: ’’اس کالی عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: ’’إِنِّيْ أُصْرَعُ، وَإِنِّي أَتَکَشَّفُ، فَادْعُ اللّٰہَ لِيْ۔‘‘ [’’بے شک مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور بے شک میری بے پردگی ہوتی ہے، پس میرے لیے دعا کیجیے (کہ مجھے اللہ تعالیٰ اس مرض سے شفا دے دیں)۔‘‘] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَکِ الْجَنَّۃُ، وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللّٰہَ أَنْ یُعَافِیَکِ۔‘‘ [’’اگر تم چاہو تو صبر کرو، تو تمہارے لیے جنت ہے اور اگر تم چاہو، تو میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کروں، کہ وہ تمہیں عافیت عطا فرما دیں‘‘] اس [خاتون] نے عرض کیا: ’’إِنِّيْ أَتَکَشَّفُ، فَادْعُ اللّٰہَ أَنْ لَا أَتَکَشَّفَ۔‘‘[1] ’’بے شک (مرگی کے وقت) میری بے پردگی ہو جاتی ہے، پس آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے، کہ میری بے پردگی نہ ہو۔‘‘ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ اس حدیث شریف سے یہ بات واضح ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کا عظیم ثواب بیان فرما کر بیمار عورت کو صبر کی ترغیب دی۔ [1] متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب المرضی، باب فضل من یصرع من الریح، رقم الحدیث ۵۶۵۲، ۱۰/۱۱۴؛ وصحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب ثواب المؤمن مما یصیبہ من مرض أو حزن أو نحو ذٰلک،…، رقم الحدیث ۵۴۔(۲۵۷۶)، ۴/۱۹۹۴۔ الفاظِ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔