کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 162
[بَابُ مَوْعِظَۃِ الْإِمَامِ النِّسَائَ یَوْمَ الْعِیْدِ] [1] [عید کے دن امام کا عورتوں کو وعظ کرنے کے متعلق باب] امام بخاری نے اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرکے اس پر درج ذیل عنوان لکھا ہے: [بَابُ عِظَۃِ الْإِمَامِ النِّسَائَ وَتَعْلِیْمِہِنَّ] [2] [امام کے عورتوں کو وعظ کرنے اور انہیں تعلیم دینے کے متعلق باب] گفتگو کا خلاصہ یہ ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو دعوت دینے کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔[3] (۱۱) جوانوں کو دعوتِ دین دینا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوجوانوں کو دعوت دین دینے کا بھی خصوصی طور پر خیال رکھتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انہیں اجتماعی اور انفرادی دونوں صورتوں میں دعوت دینا ثابت ہے۔ اس سلسلے میں ذیل میں تین مثالیں توفیق الٰہی سے پیش کی جارہی ہیں: ا: نوجوانوں کو شادی کی ترغیب دینا: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ’’یَا مَعْشَرَ الشَبَابِ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَائَۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ، فَإِنَّہُ [1] صحیح البخاري، کتاب العیدین، ۲/۴۶۶۔ [2] المرجع السابق، کتاب العلم، ۱/۱۹۲۔ [3] اس بارے میں مزید مثالیں [نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم] صفحات ۷۸۔ ۸۱ میں دیکھئے۔