کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 161
رکھتی ہے، وہ اس وقت تک اپنے سر کو (سجدے سے) نہ اٹھائے، یہاں تک کہ مرد اپنے سروں کو اٹھالیں۔‘‘ انہوں (یعنی حضرت اسماء رضی اللہ عنہا ) نے بیان کیا: ’’اور یہ (حکم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے) اس لیے (دیا)، کیونکہ ان [یعنی مردوں] کی چادریں چھوٹی ہونے کی بنا پر یہ خدشہ تھا، کہ سجدہ کی حالت میں ان کی شرمگاہیں بے پردہ ہوگئی ہوں۔‘‘[1] اس حدیث شریف سے یہ بات واضح ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مستورات کو مردوں سے پہلے سجدے سے اپنے سروں کے اٹھانے سے منع فرمایا۔ ج: عید کے دن مستورات کو وعظ فرمانا: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان فرمایا: ’’قَامَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَوْمَ الفِطْرِ، فَصَلَّی، فَبَدَأَ بِالصَّلَاۃِ، ثُمَّ خَطَبَ، فَلَمَّا فَرَغَ، نَزَلَ، فَأَتَی النِّسَائَ، فَذَکَّرَھُنَّ…الحدیث[2] ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر کی نماز پڑھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا نماز سے فرمائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ سے) فارغ ہوئے، تو عورتوں کے ہاں تشریف لائے اور انہیں وعظ فرمایا۔‘‘… الحدیث امام بخاری نے اس پر درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے: [1] المسند، رقم الحدیث ۲۶۹۵۱، ۴۴/۵۱۴۔ شیخ ارناؤوط اور ان کے رفقاء نے اس کو [صحیح لغیرہ] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ھامش المسند ۴۴/۵۱۴)۔ [2] متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب العیدین، جزء من رقم الحدیث ۹۷۸، ۲/۴۶۶؛ وصحیح مسلم، کتاب صلاۃ العیدین، جزء من رقم الحدیث ۳۔ (۸۵۵)، ۲/۶۰۳۔