کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 148
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ (اپنی بات) دہرائی۔ میں ہر دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب اٹھ کر جاتا اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ’’بیٹھ جاؤ۔‘‘ جب میں تیسری مرتبہ اٹھا، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست (مبارک) میرے ہاتھ پر مارا۔‘‘[1] حدیث سے معلوم ہونے والی تین باتیں: ۱: دعوتِ دین دینے کے لیے لوگوں کو کھانے پر جمع کرنا۔ ۲: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے خاندان بنو عبد المطلب کو دعوت دین دینے کا اہتمام فرمانا۔ ۳: واضح نشانیاں دیکھنے کے باوجود ضروری نہیں، کہ لوگ دعوتِ حق قبول کرلیں۔ ج: چچا ابوطالب کو دعوتِ دین: امام بخاری اور امام مسلم نے سعید بن المسیب کے حوالے سے ان کے باپ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے انہیں بتلایا: ’’جب ابوطالب کی وفات کا وقت آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل بن ہشام اور عبد اللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطالب سے کہا: [1] المسند، رقم الحدیث ۱۳۷۱، ۲/۳۵۲۔۳۵۳۔ (ط: دارالمعارف مصر)؛ والأحادیث المختارۃ، مسند علي بن أبي طالب رضی اللّٰه عنہ ، رقم الحدیث ۴۴۸، ۲/۷۱۔۷۲۔ حافظ ہیثمی لکھتے ہیں، کہ اس کو احمد نے روایت کیا ہے اور اس کے راویاں [ثقہ] ہیں؛ شیخ احمد شاکر اور شیخ عبد الملک دھیش نے اس کی [سند کو صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: مجمع الزوائد ۸/۳۰۲؛ وھامش المسند ۲/۳۵۲؛ وھامش الأحادیث المختارۃ ۲/۷۱)۔ نیز ملاحظہ ہو: المسند، رقم الحدیث ۸۸۳، ۲/۱۶۵۔ (ط: دارالمعارف بمصر)۔