کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 147
فرق [1] (پانی) پی لیتا تھا۔‘‘ انہوں نے بیان کیا: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک مد[2]کھانا تیار کروایا۔ انہوں نے سیر ہوکر کھایا۔‘‘ انہوں نے بیان کیا: ’’پھر بھی کھانا اسی قدر رہا، جتنا پہلے تھا۔ (ایسے معلوم ہورہا تھا کہ) گویا کہ اس کو چھوا ہی نہیں گیا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا پیالہ (پانی) کا منگوایا۔ انہوں نے سیر ہوکر پیا۔ پھر بھی پانی اس قدر باقی رہا، کہ گویا کہ اس کو چھوا ہی نہیں گیا یا انہوں نے پیا ہی نہیں۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یَا بَنِيْ عَبْدِ الْمُطَّلِب! إِنِّي بُعِثْتُ إِلَیْکُمْ خَاصَّۃً، وَإِلَی النَّاسِ عَامَّۃً، وَقَدْ رَأَیْتُمْ مِنْ ھٰذِہِ الْآیَۃِ مَا رَأَیْتُمْ، فَأَیُّکُمْ یُبَایِعُنِيْ عَلٰی أَنْ یَکُوْنَ أَخِيْ وَصَاحِبِيْ؟‘‘ ’’اے بنو عبد المطلب! بے شک مجھے خصوصی طور پر تمہاری طرف اور عمومی طور پر سب لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔ اور اس بارے میں تم نشانی دیکھ چکے ہو۔ پس تم میں سے کون میرا بھائی اور ساتھی بننے کے لیے میری بیعت کرتا ہے؟‘‘ انہوں نے بیان کیا: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کوئی ایک بھی نہ اٹھا۔‘‘ انہوں نے بیان کیا: ’’میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب اٹھا، اور میں (وہاں موجود) لوگوں میں سے سب سے چھوٹا تھا۔‘‘ انہوں نے بیان کیا: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بیٹھ جاؤ۔‘‘ [1] (الفرق): اہل حجاز کا ایک پیمانہ جو کہ بارہ مد یا تین صاع کے برابر ہوتا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ھامش المسند للشیخ احمد شاکر ۲/۳۵۲) اور صاع کم و بیش اڑھائی کلو کے برابر ہوتا ہے۔ اس طرح الفرق کم و بیش ساڑھے سات کلو ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [2] (مد): صاع کا ایک چوتھائی۔