کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 136
ب: منافقوں کو اہل اسلام کو اذیت دینے سے منع کرنا: امام ترمذی اور امام ابن حبان نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور بلند آواز سے بلاتے ہوئے فرمایا: ’’یَا مَعْشَرَ مَنْ أَسْلَمَ بِلِسَانِہِ وَلَمْ یُفْضِ الْإِیْمَانُ إِلٰی قَلْبِہِ! لَا تُؤْذُوْا الْمُسْلِمِیْنَ، وَلَا تُعَیِّرُوْھُمْ، وَلَا تَتِّبِعُوْا عَوْرَاتِہِمْ، فَإِنَّہُ مَنْ یَتَّبِعْ عَوْرَۃَ أَخِیْہِ الْمُسْلِمِ تَتَبَّعْ اللّٰہُ عَوْرَتَہُ۔ وَمَنْ یَتَّبِعِ اللّٰہُ عَوْرَتَہُ یَفْضَحْہُ، وَلَوْ فِيْ جَوْفِ رِحْلِہِ۔‘‘[1] [’’اے وہ لوگو جو اپنی زبان کے ساتھ مسلمان ہوئے اور ایمان ان کے دل تک نہیں پہنچا! مسلمانوں کو اذیت نہ دو اور نہ ان پر طعن زنی کرو اور نہ (ہی) ان کے عیوب ڈھونڈنے کے درپے رہو، کیونکہ بے شک جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کی کوتاہی کی ٹوہ میں رہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی خامی تلاش کرتے ہیں اور جس کی خامی اللہ تعالیٰ تلاش کریں، تو وہ اس کو رسوا کردیتے ہیں، اگرچہ وہ اپنے گھر کے درمیان میں (لوگوں سے چھپا ہوا بھی) ہو۔‘‘] اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقوں کو خطاب کرکے انہیں [1] جامع الترمذي، أبواب البر والصلۃ، رقم الحدیث ۲۱۰۱، ۶/۱۵۲؛ والإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب الحظر والإباحۃ، باب الغیبۃ، ذکر الزجر عن طلب عثرات المسلمین وتعییرھم، رقم الحدیث ۵۷۶۳، ۱۳/۷۵۔۷۶۔ امام ترمذی نے اس کو [حسن غریب] اور شیخ البانی نے [حسن صحیح] قرار دیا ہے۔ شیخ شعیب ارناؤوط نے ابن حبان کی [سند کو قوی] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: جامع الترمذي ۶/۱۵۳؛ وصحیح الترغیب والترھیب ۲/۵۸۸؛ وھامش الإحسان ۱۳/۷۶)۔