کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 134
حدیث پر درج بالا عنوان تحریر کیا ہے: [بَابُ الدُّعَائِ إِلَی الشَّہَادَتَیْنِ وَشَرَائِعِ الْإِسْلَامِ] [1] [توحید و رسالت کی گواہی اور اسلامی شریعت کی پابندی کی دعوت دینے کے متعلق باب] (۵) منافقوں کو دعوتِ دین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منافقوں کو بھی دعوت دین دیا کرتے تھے۔ اس بارے میں ذیل میں دو مثالیں ملاحظہ فرمائیے: ا: عبد اللہ بن أبی کے ہاں تشریف لے جانا: امام بخاری اور امام مسلم حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اگر آپ عبد اللہ بن ابی کے پاس تشریف لے جاتے (تو بہتر ہوتا)۔‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوکر اس کی طرف روانہ ہوئے۔ مسلمان (بھی) پیدل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ (جہاں سے وہ گزر رہے تھے) وہ شور زمین تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے، تو وہ کہنے لگا: ’’مجھ سے دور رہیے، بے شک آپ کے گدھے کی بُو نے مجھے اذیت پہنچائی ہے۔‘‘ اس پر ان میں سے ایک انصاری شخص نے کہا: ’’اللہ تعالیٰ کی قسم! یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبو دار ہے۔‘‘ [1] صحیح مسلم، کتاب الإیمان ۱۰/۵۰۔