کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 133
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یقینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ پس اگر وہ تمہاری اس بات کو مان لیں، تو انہیں بتلانا، کہ اللہ تعالیٰ نے ہر دن رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ پس اگر وہ تمہاری اس بات کو (بھی) مان لیں، تو انہیں خبر دینا، کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ (کی ادائیگی) فرض کی ہے، وہ ان کے مال داروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں پر خرچ کی جائے گی۔ الحدیث حدیث شریف میں مذکور [أَھْلِ کِتَابِ] سے مراد… جیسا کہ علامہ قرطبی نے بیان کیا ہے…[1] یہود و نصاریٰ ہیں اور ان کی یمن میں تعداد مشرکین عرب سے زیادہ تھی۔ حدیث سے معلوم ہونے والی دیگر تین باتیں: ۱: دعوتِ دین کے لیے مبلغ ارسال کرنا۔ ۲: داعی کے لیے اپنے مخاطبین کے متعلق ضروری معلومات کا جاننا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو ان کے مخاطبین کے متعلق معلومات مہیا فرمائیں۔ علامہ قرطبی شرح حدیث میں لکھتے ہیں، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے [اہل کتاب] کا خصوصی طور پر معاذ رضی اللہ عنہ کے لیے اس لیے ذکر فرمایا، کیونکہ وہ مشرکین عرب کے برعکس اہل علم تھے اور تاکہ وہ ان کے ساتھ مجادلہ و مناظرہ کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوجائیں اور ان کی تسلی و اطمینان کے لیے دلائل و شواہد کو قبل از وقت ترتیب دے لیں۔[2] ۳: دعوتِ دین کی اساس توحید و رسالت کی دعوت دینا ہے اور اسی سے دعوت کا آغاز ہوگا اور اس کے بعد نماز و زکوٰۃ کی دعوت دینا ہے۔ امام نووی نے اس [1] ملاحظہ ہو: المفہم ۱/۱۸۱۔ [2] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۱/۱۸۱۔