کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 129
کے ثمرات بیان فرما کر ہرقل کو دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی ترغیب دی ۔ حدیث کی شرح میں علامہ قرطبی نے تحریر کیا ہے: ’’یَعْنِيْ تَدْخُلْ فِيْ دِیْنِ الْإِسْلَامِ تَسْلَمْ فِي الدُّنْیَا مِنَ الْخِزْيِ، وَفِيْ الآخِرَۃِ مِنَ الْعَذَابِ۔‘‘[1] [یعنی دین اسلام میں داخل ہوجاؤ، دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب سے محفوظ ہوجاؤ گے]۔ علاوہ ازیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اسلام سے منہ موڑنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا: [پس اگر تم نے (دعوت اسلام سے) منہ موڑا، تو تمہارے ذمہ کسانوں کا گناہ (بھی) ہے] اور اس سے مراد یہ ہے، کہ اگر تم نے دعوتِ اسلام کے قبول کرنے سے اعراض کیا، تو تم پر تمہاری پیروکار رعیت کا بھی گناہ ہوگا، جو کہ تمہارے اطاعت قبول کرنے پر (ہی) اطاعت کرتے ہیں۔[2] صحیح بخاری میں ایک مقام پر امام بخاری نے اس حدیث پر درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے: [بَابُ دَعْوَۃِ الْیَہُوْدِ وَالنَّصَارَی، وَعَلٰی مَا یُقَاتَلُوْنَ عَلَیْہِ، وَمَا کَتَبَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم إِلٰی کِسْرٰی وَقَیْصَرَ ، وَالدَّعْوَۃِ قَبْلَ الْقَتَالِ] [3] [یہود و نصاریٰ کو دعوت دینے اور ان سے لڑائی کی جانے والی بات کے متعلق باب، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایران اور روم کے بادشاہوں کو خطوط [1] المفہم ۳/۶۰۸۔ [2] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۳/۶۰۹۔ [3] صحیح البخاري، کتاب الجہاد، ۶/۱۰۸۔