کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 128
اللّٰہُ أَجْرَکَ مَرَّتَیْنِ، وَإِنْ تَوَلَّیْتَ فَإِنَّ عَلَیْکَ إِثْمَ الْأَرِیْسِیِّیْنَ وَ{قُلْ یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْہَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ[1]}‘‘[2] [(شروع کرتا ہوں) اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ جو نہایت رحم کرنے والے بہت مہربان ہیں۔ محمد رسول اللہ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ کی جانب سے رومیوں کے قائد ہرقل کے نام۔ ہدایت کی پیروی کرنے والے پر سلام۔ امابعد بلاشبہ میں تجھے اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام قبول کرلو، بچ جاؤ گے۔ مسلمان ہوجاؤ، اللہ تعالیٰ تمہیں دہرا اجر دے گا۔ اور اگر تم نے اعراض کیا، تو تمہارے ذمہ کسانوں کا گناہ (بھی) ہوگا)۔ اور (اے اہل کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے، کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور ان کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ تعالیٰ کے سوا رب نہ بنائے۔ پس وہ اگر پھر جائیں، تو کہہ دیجیئے گواہ رہو بے شک ہم فرماں بردار ہیں)۔‘‘ اس حدیث شریف میں ہم دیکھتے ہیں، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام قبول کرنے [1] سورۃ آل عمران / الآیۃ ۶۴۔ [2] متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب بدء الوحي، جزء من رقم الحدیث ۷، ۱/۳۲؛ وصحیح مسلم، کتاب الجہاد والسیر، جزء من رقم الحدیث ۷۴۔ (۱۷۷۳)، ۳/۱۳۹۳۔ ۱۳۹۶۔ الفاظِ حدیث صحیح مسلم کے ہیں۔