کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 127
۳: مخاطَب کی نفسیات سمجھنا اور اس کے مطابق گفتگو کرنا ایک کامیاب داعی کے لیے بہت ضروری ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبولِ اسلام کی راہ میں عدی بن حاتم کی نفسیاتی رکاوٹ مسلمانوں کی خستہ حالی کو سمجھا، اور اس کا ازالہ یہ بیان فرما کر کیا، کہ مستقبل اسلام کا ہے۔ ۴: لوگوں کے قبولِ اسلام کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ اطہر میں شدید تڑپ تھی اور ان کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے پناہ خوشی ہوتی تھی۔ عدی رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ کھل اٹھا۔ ب: ہرقل کو دعوتِ اسلام: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رومیوں کے قائد ہرقل کو دعوتِ اسلام کی غرض سے گرامی نامہ ارسال فرمایا۔ امام بخاری نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے روایت نقل کی ہے، کہ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل کو مکتوب گرامی ارسال فرمایا۔[1] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گرامی نامہ کا متن صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے۔ امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے روایت نقل کی ہے، کہ یقینا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں خود خبر دی۔ انہوں [ابوسفیان رضی اللہ عنہ ] نے بیان کیا: ’’پھر اس [ہرقل] نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب منگوا کر پڑھا۔ اس میں تھا: ’’بسم اللّٰه الرحمن الرحیم۔ مِنْ مُحَمَّدٍ صلی اللّٰه علیہ وسلم رَسُوْلِ اللّٰہِ إِلٰی ھِرَقْلَ عَظِیْمِ الرُّوْمِ۔ سَلَامٌ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدَی۔ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّيْ أَدْعُوْکَ بِدِعَایَۃِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ یُؤْتِکَ [1] ملاحظہ ہو: صحیح البخاري، کتاب الجہاد، باب ھل یرشد المسلم أھل الکتاب أو یعلّمہم الکتاب، جزء من رقم الحدیث ۲۹۳۶، ۶/۱۰۷۔