کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 122
فرمائی۔ اس کے متعلق ذیل میں تین شواہد ملاحظہ فرمائیے: ا: عدی بن حاتم کو دعوتِ اسلام: امام احمد نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، تو میں ان سے دور بھاگا، یہاں تک کہ میں رومی سلطنت سے متصل اسلامی علاقے کے آخری حصے میں پہنچ گیا۔‘‘ انہوں نے بیان کیا: ’’میں نے اس جگہ کو (بھی) ناپسند کیا، جہاں میں پہنچاتھا، یہاں تک کہ میری اس کے لیے ناپسندیدگی اس جگہ سے [بھی] زیادہ ہوگئی، جہاں سے میں آیا تھا۔‘‘ انہوں نے بیان کیا: ’’میں نے [اپنے آپ سے] کہا: ’’میں اس شخص [یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ] کے پاس ضرور جاتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی قسم! اگر وہ سچا ہوا، تو میں [اس کی بات] کو ضرور سنوں گا، اور اگر وہ معاذ اللہ جھوٹا ہوا، تو مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔‘‘ انہوں نے بیان کیا: ’’میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو لوگوں نے مجھے سر اٹھا کر دیکھا، اور کہنے لگے: ’’عدی بن حاتم، عدی بن حاتم‘‘ راوی نے کہا: [1]میرا گمان ہے، کہ انہوں نے تین مرتبہ کہا۔[2] انہوں نے بیان کیا: ’’انہوں… یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم … نے مجھ سے فرمایا: [1] یہ کہنے والے عدی رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے شخص ابن حذیفہ ہیں۔ واللہ تعالیٰ أعلم۔ [2] یعنی عدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ لوگوں نے تین مرتبہ [عدی بن حاتم] کہا۔