کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 118
[اے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے [پیغام] پہنچا دیا ہے]۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ذٰلِکَ أُرِیْدُ‘‘۔ [میں یہی چاہتا ہوں]۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ فرمایا، تو انہوں نے کہا: ’’اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے [پیغام] پہنچا دیا ہے‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری دفعہ یہی بات دہرائی اور [ساتھ ہی یہ بھی] فرمایا: ’’اِعْلَمُوْا أَنَّ الْأَرْضَ لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہِ، وَإِنِّيْ أُرِیْدُ أَنْ أُجْلِیَکُمْ۔ فَمَنْ وَجَدَ مِنْکُمْ بِمَالِہِ شَیْئًا فَلْیَبِعْہُ، وَإِلَّا فَاعْلَمُوْا َٔانَّمَا الْأَرْضُ لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہِ۔‘‘[1] [جان لو کہ بے شک زمین اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے اور بلاشبہ میں تمہیں [یہاں سے] نکالنے کا ارادہ رکھتا ہوں، سو تم میں سے جس کو اپنی مملوکہ چیزوں کے بدلے میں کچھ ملے، وہ اس کو فروخت کرے، وگرنہ جان لو، کہ یقینا زمین اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے]۔ اس حدیث میں یہ بات واضح ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دی اور اس دعوت کو تین مرتبہ دہرایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے [أَسْلِمُوْا تَسْلَمُوْا] کے الفاظ مبارکہ کے ساتھ دعوت دی۔ ان کی شرح میں علامہ قرطبی نے لکھا ہے: [1] متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب الإکراہ، باب فی بیع المکرہ ونحوہ في الحق وغیرہ، رقم الحدیث ۶۹۴۴، ۱۲/۳۱۷؛ وصحیح مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب إجلاء الیہود من الحجاز، رقم الحدیث ۶۱۔ (۱۷۶۵)، ۳/۱۳۸۷۔ الفاظِ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔