کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 117
معبود نہیں! بلاشبہ تم یقینا جانتے ہو، کہ وہ بے شک اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور وہ [دین] حق کے ساتھ تشریف لائے ہیں]۔ انہوں نے کہا: ’’کَذَبْتَ۔‘‘ ’’تو جھوٹ کہہ رہا ہے۔‘‘ [اس پر] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو [اپنے ہاں سے] نکال دیا۔[1] اس حدیث شریف میں ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دی۔ علاوہ ازیں حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے بھی انہیں اسی بات کی دعوت دی۔ ب: یہودیوں کے سردار کے گھر جاکر دعوتِ اسلام دینا: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’ہم مسجد میں تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ’’إِنْطَلِقُوْا إِلَی یَہُوْدَ۔‘‘ [یہود کی طرف چلو]۔ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ یہودیوں کے سردار کے گھر پہنچے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کھڑے ہوکر انہیں آواز دی: ’’یَا مَعْشَرَ یَہُوْدَ! أَسْلِمُوْا تَسْلَمُوْا۔‘‘ [اے گروہ یہود! مسلمان ہوجاؤ بچ جاؤ گے]۔ انہوں نے جواب دیا: ’’بَلَّغْتَ یَا أَبَا الْقَاسِمِ صلی اللّٰه علیہ وسلم !‘‘ [1] صحیح البخاري، کتاب مناقب الأنصار، باب ھجرۃ النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم وأصحابہ إلی المدینۃ، جزء من رقم الحدیث ۳۹۱۱، ۷/۲۵۰۔