کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 114
حدیث پر درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے: [بَابٌ فِيْ دُعَائِ الْمُشْرِکِیْنَ] [1] [مشرکوں کو دعوت دینے کے متعلق باب] حدیث سے معلوم ہونے والی دیگر تین باتیں: ۱: دعوت دین کے لیے جماعت اور نظام ضروری ہے، اس کے بغیر کسی شخص کا تنہا دعوت کا کماحقہ کام کرنا مشکل ہے۔ ۲: اسلامی جہاد کا اولین مقصد دعوتِ اسلام ہے۔ ۳: مشرکوں کے قبول اسلام کے بعد ان سے لڑنے کی اجازت نہیں، کیونکہ اسلامی جہاد کا مقصود مال و زر کا حصول اور ملکوں پر قبضہ کرنا نہیں، بلکہ اعلائے کلمۃ الحق ہے۔ (۲) یہودیوں کو دعوت دینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اسلام کی دعوت دینے کا خصوصی اہتمام فرمایا۔ اس بارے میں متعدد مثالوں میں سے چار درج ذیل ہیں: ا: دعوتِ اسلام دینے کی خاطر یہودیوں کو بلانا: امام بخاری نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے[2]، تو عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے حاضر ہوکر عرض کیا: [1] سنن أبي داود ۷/۱۹۴۔ [2] یعنی ہجرت کے موقع پر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر۔ (ملاحظہ ہو: فتح الباري ۷/۲۵۲)۔