کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 112
وَالْعُزَّی۔‘‘ [اور ابوجہل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالتا، اور کہتا: ’’یہ تمہیں تمہارے دین سے بھٹکا نہ دے، کیونکہ وہ تو چاہتا ہے، کہ تم اپنے معبودوں کو چھوڑ دو اور لات و عزی کو چھوڑ دو‘‘]۔ ’’وَمَا یَلْتَفِتُ إِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ۔‘‘[1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف توجہ نہ دیتے۔‘‘ اس حدیث شریف میں یہ بات واضح ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعوت مشرکوں کے لیے تھی، جو کہ لات و عزی کے پجاری تھے۔ حدیث سے معلوم ہونے والی دیگر چار باتیں: ۱: دعوتِ دین مسجد اور مدرسہ کی چار دیواری میں محدود نہیں۔ یہ بازار میں بھی دی جاتی ہے۔ ۲: دعوتِ دین کی اساس دعوتِ توحید ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے اسی کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے تھے۔ ۳: دعوت دیتے وقت بسا اوقات داعی کو دشمنوں کی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ۴: دشمنوں کی اذیتیں داعی کی کوششوں کو ختم اور ارادوں کو بدل نہیں سکتیں، بلکہ وہ تو یکسوئی سے اپنے مشن کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھتا ہے۔ ب: مشرکوں کو دعوت اسلام دینے سے ابتدا کرنے کا امراء کو حکم: امام مسلم اور امام ابوداؤد نے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: [1] المسند، جزء من رقم الحدیث ۲۳۱۹۲، ۳۸/۲۴۶۔۲۴۷۔ حافظ ہیثمی لکھتے ہیں: ’’اس کو احمد نے روایت کیا ہے اور اس کے راویان صحیح کے راویوں میں سے ہیں۔‘‘ (مجمع الزوائد ۶/۲۲)۔