کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 99
’’کہہ دیجیے کہ کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ لوگ جو علم نہیں رکھتے، برابر ہو سکتے ہیں؟ نصیحت تو صرف عقل والے ہی پکڑتے ہیں۔‘‘ اور اسی طرح علم والوں کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ﴾ [المجادلۃ: ۱۱] ’’اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان والوں کے اور جن لوگوں کو علم عطا کیا گیا، ان کے درجات بلند فرمائے گا۔‘‘ ٭…سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ)) [1] ’’علم کا حصول ہر مسلمان پر فرض ہے۔‘‘ ٭…سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((سَلُوا اللّٰہَ عِلْمًا نَافِعًا وَتَعَوَّذُوا بِاللّٰہِ مِنْ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ)) [2] ’’اللہ تعالیٰ سے نفع بخش علم کا سوال کرو اور ایسے علم سے اللہ کی پناہ مانگو جو نفع نہ دیتا ہو۔‘‘ نفع مند علم کی تین نشانیاں ہیں: 1… جس کے پاس نفع مند علم ہو گا وہ اس پر عمل بھی کرے گا۔ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ بندے کے پاس نفع مند علم ہو لیکن وہ نماز نہ پڑھے، بڑوں کا احترام نہ کرے، جھوٹ بولتا پھرے، لوگوں کو دھوکہ دے، اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو، یہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ نفع مند علم تو انسان کو عمل کی طرف کھینچتا ہے۔ نفع مند علم تو ایسا ہوتا ہے جیسا کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ پچاس سال سے میری یہ عادت ہے کہ اذان بعد میں ہوتی ہے اور میں پہلی صف میں پہلے [1] صحیح الجامع: ۳۹۱۳ ، ۳۹۱۴. [2] صحیح الجامع: ۳۶۳۵۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۵۱۱.