کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 95
’’انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لیے دِین کو خالص رکھتے ہوئے۔‘‘ ٭…سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ)) [1] ’’تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔‘‘ لہٰذا اعمال کی قبولیت کے لیے نیت کا درست ہونا نہایت ضروری ہے، اگر نیت ٹھیک نہ ہوئی تو اس مشن میں صرف ہونے والا مال بھی ضائع ہو جائے گا، وقت بھی رائیگاں جائے گا اور صلاحیتیں بھی کسی کام نہیں آئیں گی۔ سب کا سب اللہ کے ہاں سے رَد کر دیا جائے گا۔ ٭…سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ لَا یَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا کَانَ لَہٗ خَالِصًا، وَابْتُغِیَ بِہٖ وَجْہُہٗ))[2] ’’یقینا اللہ تعالیٰ صرف اسی عمل کو قبول فرماتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو اور اس کے ذریعے اللہ کی رضا تلاش کی گئی ہو۔‘‘ ٭…سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللّٰہُ بِہٖ، وَمَنْ رَائٰ ی رَائَ ی اللّٰہُ بِہٖ))[3] ’’جو شخص (اپنا عمل لوگوں کو) سناتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے متعلق (ہونے والا فیصلہ) لوگوں کو سنائے گا (اور اسے رُسوا کرے گا) اور جو شخص (اپنا عمل لوگوں کو) دِکھاتا پھرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے متعلق لوگوں کو دکھائے گا (کہ اس کا انجام کیا ہوا)۔‘‘ نمود و نمائش اور حصولِ شہرت تو اتنی بڑی بیماری ہے کہ اس کی وجہ سے بندہ اللہ تعالیٰ کے [1] صحیح البخاری: ۱۔ صحیح مسلم: ۴۹۰۴. [2] سنن النسائی : ۳۱۴۰. [3] صحیح مسلم: ۲۹۸۶.