کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 94
داعی کے اوصاف اب ہم وہ اوصاف بیان کریں گے جن سے ہر مبلغ اور داعی کو متصف ہونا ضروری ہے اور اگر کسی داعی یا مبلغ میں یہ اوصاف نہیں پائے جائیں گے تو وہ اپنے دعوتی مشن میں کامیابی نہیں پا سکے گا اور اس کے ساتھ ساتھ شدید محنت کے باوجود اجر و ثواب سے بھی محروم ہو سکتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہر داعی ان اوصاف سے کامل طور پر متصف ہو۔ 1. اخلاص: دعوتی مشن کو اختیار کرنے والے میں اخلاص ہونا چاہیے، وہ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے یہ کام کرے۔ دنیا کی چاہت، دنیوی مقاصد کے حصول، دنیا میں تعریف اور واہ واہ کروانے کے لیے اس مشن کو اختیار نہ کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں ایسی تعلیم دی ہوئی تھی کہ اگر کوئی شخص ان کی تعریف کرتا تو وہ جواباً کہتے: اَللّٰھُمَّ لَا تُؤَاخِذْنِی بِمَا یَقُولُونَ وَاغْفِرْ لِی مَا لَا یَعْلَمُونَ، وَاجْعَلْنِی خَیْرًا مِمَّا یَظُنُّونَ۔[1] ’’اے اللہ! جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں، ان باتوں پر میرا مواخذہ نہ فرمانا، اور میرے ان گناہوں کو بخش دینا جو ان کے علم میں نہیں ہیں، اور مجھے اس سے بھی بہتر بنا دے جیسا یہ میرے بارے میں گمان کرتے ہیں۔‘‘ اسی کے متعلق فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ﴾ [البینۃ: ۵]
[1] شعب الإیمان: ۴۵۳۴۔ الأدب المفرد للبخاری: ۷۶۱.