کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 91
أَخَذُوا عَلٰی أَیْدِیہِمْ نَجَوْا، وَنَجَوْا جَمِیعًا)) [1] ’’اس شخص کی مثال جو اللہ کی حدود پر قائم ہو اور جو ان میں مبتلا ہو گیا ہو، ان لوگوں کی سی ہے جنہوں نے ایک کشتی کو قرعہ اندازی کے ذریعے تقسیم کر لیا۔ بعض لوگوں کے حصے میں اوپر والا طبقہ آیا جبکہ کچھ لوگوں نے نچلا حصہ لے لیا۔ اب نچلے حصے والوں کو جب پانی کی ضرورت ہوتی تو وہ اوپر والوں کے پاس سے گزرتے۔ انہوں نے خیال کیا کہ اگر ہم اپنے نچلے حصے ہی میں سوراخ کر لیں تو اچھا ہو گا، اس سے ہم اوپر والوں کے لیے اذِیت کا باعث نہیں بنیں گے۔ اس صورتِ حال میں اگر اوپر والے نیچے والوں کو ان کے ارادے کے مطابق چھوڑ دیں تو سب ہلاک ہو جائیں گے اور اگر وہ ان کا ہاتھ پکڑ لیں تو وہ بھی بچ جائیں گے اور دوسرے بھی محفوظ رہیں گے۔‘‘ 3. دعوت کے منہج کو چھوڑنا اللہ تعالیٰ کی لعنت کا موجب ہے: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ (78) كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ﴾ [المائدۃ: ۷۸، ۷۹] ’’بنی اسرائیل کے کافروں پر داؤد ( علیہ السلام ) اور عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام ) کی زبانی لعنت کی گئی، اس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ آپس میں ایک دوسرے کو برے کاموں سے؛ جو وہ کرتے تھے، روکتے نہیں تھے، یقینا وہ نہایت برا تھا جو کچھ بھی یہ کرتے تھے۔‘‘ 4. دعوت کے منہج کو چھوڑنا موت سے قبل عذاب کا باعث ہے: سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] صحیح الجامع: ۲۰۷۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ :۶۹.