کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 90
جائیں گے جبکہ ہم میں نیک لوگ بھی موجود ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں، جب خباثت زیادہ پھیل جائے گی۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یقینا اللہ تعالیٰ اہلِ زمین پر اپنی سختیاں اتارتا ہے، حالانکہ ان میں نیک لوگ بھی موجود ہوتے ہیں، وہ بھی دوسروں کی ہلاکت کے ساتھ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یَا عَائِشَۃُ، إِنَّ اللّٰہَ سُبْحَانَہٗ إِذَا أَنْزَلَ سَطْوَتَہٗ عَلٰی أَہْلِ نِقْمَتِہٖ فَوَافٰی ذَالِکَ آجَالَ قَوْمٍ صَالِحِیْنَ، فَأُہْلِکُوا بِہَلَاکِہِمْ، ثُمَّ یُبْعَثُونَ عَلٰی نِیَّاتِہِمْ وَأَعْمَالِہِمْ)) [1] ’’اے عائشہ! بے شک اللہ سبحانہ و تعالیٰ جب ان لوگوں پر اپنی سزا اتارتا ہے کہ جن کو سزا دینا ہوتی ہے تو وہ نیک لوگوں کا وقت بھی لے آتی ہے، سو وہ بھی ان کی ہلاکت کے ساتھ ہی ہلاک ہو جاتے ہیں، پھر وہ اپنی نیتوں اور عملوں پر اٹھائے جائیں گے۔‘‘ 2. دعوت کے منہج کو چھوڑنا پورے معاشرے کی تباہی کا موجب ہے: سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَثَلُ القَائِمِ عَلٰی حُدُودِ اللّٰہِ وَالوَاقِعِ فِیہَا، کَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَہَمُوا عَلٰی سَفِینَۃٍ، فَأَصَابَ بَعْضُہُمْ أَعْلاَہَا وَبَعْضُہُمْ أَسْفَلَہَا، فَکَانَ الَّذِینَ فِی أَسْفَلِہَا إِذَا اسْتَقَوْا مِنَ المَائِ مَرُّوا عَلٰی مَنْ فَوْقَہُمْ، فَقَالُوا: لَوْ أَنَّا خَرَقْنَا فِی نَصِیبِنَا خَرْقًا وَلَمْ نُؤْذِ مَنْ فَوْقَنَا، فَإِنْ یَتْرُکُوہُمْ وَمَا أَرَادُوا ہَلَکُوا جَمِیعًا، وَإِنْ [1] شعب الإیمان للبیھقی: ۷۱۹۳۔ صحیح الجامع: ۱۷۱۰۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۶۲۲.