کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 88
بشارت، جنت کی ہر خوشگوار چیز اور جنت کا ایک درخت، جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ: ((إِنَّ فِی الجَنَّۃِ لَشَجَرَۃً، یَسِیرُ الرَّاکِبُ فِی ظِلِّہَا مِائَۃَ عَامٍ لاَ یَقْطَعُہَا)) [1] ’’یقینا جنت میں ایک درخت ہے کہ ایک سوار اس کے سائے میں سو سال تک بھی چلتا رہے تو اس کو عبور نہیں کر سکتا۔‘‘ سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((طُوبٰی شَجَرَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ مَسِیرَۃَ مِائَۃَ عَامٍ، ثِیَابُ أَہْلِ الجَنَّۃِ تَخْرُجُ مِنْ أَکْمَامِہَا)) [2] ’’طوبیٰ جنت میں موجود ایک درخت ہے، جو سو سال کی مسافت جتنا بڑا ہے، جنتیوں کے لباس اس درخت کی شاخوں سے نکلیں گے۔‘‘ [1] صحیح البخاری: ۶۵۵۲. [2] صحیح الجامع: ۳۹۱۸.