کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 86
آخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ، ہَلُمَّ عَنِ النَّارِ، ہَلُمَّ عَنِ النَّارِ فَتَغْلِبُونِی تَقَحَّمُونَ فِیہَا)) [1] ’’میری مثال اس شخص جیسی ہے جس نے آگ جلائی اور جب اس آگ نے اردگرد کو روشن کر دیا تو پتنگے اور یہ حشرات الارض جو آگ میں (آ پڑتے) ہیں، اس میں گرنے لگے۔ اس شخص نے انہیں روکنا شروع کر دیا اور وہ (پتنگے وغیرہ) اس پر غالب آتے گئے اور آگ میں گرتے گئے۔ یہی میری اور تمہاری مثال ہے۔ میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ کر آگ سے دُور کرنے والا ہوں (اور کہتا ہوں) آگ سے ہٹ جاؤ! آگ سے ہٹ جاؤ! اور تم میرے قابو سے نکل جاتے ہو اور آگ میں جا گرتے ہو۔‘‘ 18. دعوتِ دین جنت میں داخلے کا باعث ہے: سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جو مجھے جنت میں لے جائے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَعْتِقِ النَّسَمَۃَ، وَفُکَّ الرَّقَبَۃَ)) ’’غلام کو آزاد کرو اور گردن کو آزادی دِلاؤ۔‘‘ اس نے کہا: کیا یہ دونوں باتیں ایک ہی نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا، عِتْقُ النَّسَمَۃِ أَنْ تَعْتِقَ النَّسَمَۃَ، وَفَکُّ الرَّقَبَۃِ أَنْ تُعِینَ عَلَی الرَّقَبَۃِ، وَالْمَنِیحَۃُ الرَّغُوبُ، وَالْفَیْئُ عَلَی ذِی الرَّحِمِ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَالِکَ، فَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَالِکَ، فَکُفَّ لِسَانَکَ إِلَّا مِنْ خَیْرٍ)) [2] [1] صحیح مسلم: ۲۲۸۴۔ صحیح الجامع: ۵۸۵۸. [2] مسند أحمد: ۱۸۶۴۷۔ الأدب المفرد للبخاری: ۶۹.