کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 85
مَوْتِہٖ))[1] ’’سات کام ایسے ہیں کہ بندے کے لیے اس کی موت کے بعد بھی ان کاموں کا اجر جاری رہتا ہے، جبکہ وہ قبر میں ہوتا ہے: جس نے علم سکھلایا، یا نہر کھودی، یا کنواں کھودا، یا درخت لگایا، یا مسجد بنائی، یا وراثت میں مصحف (قرآن مجید کا نسخہ) چھوڑ کر گیا، یا ایسی اولاد چھوڑ گیا جو اس کی موت کے بعد اس کے لیے مغفرت کی دعا کرے۔‘‘ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ دَعَا إِلیٰ ہُدًی، کَانَ لَہٗ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَہٗ، لَا یَنْقُصُ ذَالِکَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلیٰ ضَلَالَۃٍ، کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَہٗ، لَا یَنْقُصُ ذَالِکَ مِنْ آثَامِہِمْ شَیْئًا)) [2] ’’جو شخص (لوگوں کو) ہدایت کی طرف دعوت دے تو اسے (اپنے اجر کے علاوہ) اس شخص کے اجر کے مثل بھی اجروثواب ملے گا جو اس کی بات مان کر ہدایت کے راستے پر چلے گا، یہ ان کے اجر سے کمی نہیں کرے گا۔ اور جو شخص گمراہی کی دعوت دے تو اس پر ( اپنے گناہ کے علاوہ ہر) اس شخص کا گناہ بھی ہو گا جو اس کی بات مانے گااور یہ ان کے گناہ سے بھی کچھ کمی نہیں کرے گا۔‘‘ 17 دعوتِ دین جہنم سے آزادی کا سبب ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَثَلِی کَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَلَمَّا أَضَائَ تْ مَا حَوْلَہَا جَعَلَ الْفَرَاشُ وَہٰذِہِ الدَّوَابُّ الَّتِی فِی النَّارِ یَقَعْنَ فِیہَا، وَجَعَلَ یَحْجُزُہُنَّ وَیَغْلِبْنَہٗ فَیَتَقَحَّمْنَ فِیہَا، فَذَالِکُمْ مَثَلِی وَمَثَلُکُمْ، أَنَا [1] صحیح الجامع: ۳۶۰۲. [2] صحیح مسلم: ۲۶۷۴.