کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 82
آدمی میں بھلائی نام کی کوئی چیز نہیں جو نہ لوگوں سے محبت کرتا ہے او رنہ ہی لوگ اس سے مانوس ہوتے ہیں۔‘‘ 9. دعوتِ دین بہترین نصر ت الٰہی کا سبب ہے: سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّمَا یَنْصُرُ اللّٰہُ ہٰذِہِ الأُمَّۃَ بِضَعِیفِہَا بِدَعْوَتِہِمْ وَصَلَاتِہِمْ وَإِخْلَاصِہِمْ)) [1] ’’یقینا اللہ تعالیٰ کمزور لوگوں کی دعاؤں (پکار اور دعوت)، نمازوں اور اخلاص کی وجہ سے اس اُمت کی مدد فرماتا ہے۔‘‘ 10. دعوتِ دین اللہ تعالیٰ کی محبت کا ذریعہ ہے: خثعم قبیلہ کے ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَی اللّٰہِ إِیمَانٌ بِاللّٰہِ ثُمَّ صِلَۃُ الرَّحِمِ ثُمَّ الأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّہْیُ عَنِ المُنْکَرِ وَأَبْغَضُ الأَعْمَالِ إِلَی اللّٰہِ الإِشْرَاکُ بِاللّٰہِ ثُمَّ قَطِیعَۃُ الرَّحِمِ)) [2] ’’اللہ کے نزدیک تمام اعمال سے پسندیدہ عمل اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ہے، پھر صلہ رحمی کرنا، پھر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے، اور تمام اعمال سے زیادہ قابلِ نفرت عمل اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور قطع رحمی کرنا ہے۔‘‘ 11. دعوتِ دین حصولِ رحمت کا ذریعہ ہے: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ [1] سنن النسائی: ۳۱۷۸۔ صحیح الجامع: ۲۳۸۸. [2] صحیح الجامع: ۱۹۸.