کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 80
صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے: اگر وہ یہ بھی نہ کر سکے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فَیُمْسِکُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّہٗ لَہٗ صَدَقَۃٌ))[1] ’’پھر لوگوں کو (اپنے) شر سے بچائے، یقینا یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔‘‘ 5. دعوتِ دین کے لیے نکلنا دنیا ومافیہا سے افضل ہے: سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((غُدْوَۃٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوْ رَوْحَۃٌ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا)) [2] ’’اللہ کی راہ میں صبح کے وقت ایک سفریا شام کے وقت ایک سفردنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے بہتر ہے ۔‘‘ 6. دعوتِ دین اجرِ عظیم کا ذریعہ ہے: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [النساء: ۱۱۴] ’’ان کے اکثر خفیہ مشوروں میں کوئی خیر نہیں، ہاں! بھلائی اس کے مشورے میں ہے جو خیرات کا یا نیک بات کا یا لوگوں میں صلح کرانے کا حکم دے اور جو شخص صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے ارادہ سے یہ کام کرے، اسے ہم یقینا بہت بڑا اجر دیں گے۔‘‘ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ دَعَا إِلٰی ہُدًی کَانَ لَہٗ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَہٗ، لَا یَنْقُصُ ذَالِکَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلٰی ضَلَالَۃٍ کَانَ [1] صحیح البخاری: ۶۰۲۲۔ صحیح مسلم: ۱۰۰۸. [2] صحیح البخاری: ۶۵۶۸.