کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 74
﴿ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا لَوْنُهَا ﴾ [البقرۃ : ۶۹] ’’ہمارے لیے اپنے رب سے پوچھ کہ اس(گائے)کا رنگ کیسا ہو؟‘‘ یہاں اُدْعُ کا لفظ پوچھنے کے معنی میں مستعمل ہے۔ 9:… دعوت کا نواں معنی دعا مانگنا ہے۔ جیسا کہ ربِ کریم کا حکم ہے: ﴿ ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ﴾ [الأعراف: ۵۵] ’’اپنے رب سے گڑگڑا کر اور خفیہ طور پردعا کرو، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔‘‘ دعا ربِ کریم سے راز و نیاز کی باتیں کرنے کا ذریعہ ہے۔ تنہائی میں، یکسوئی سے، گڑگڑا کر اور خشیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے والا کبھی نامراد نہیں ہوتا۔ لہٰذا اپنی اور لوگوں کی اصلاح کا جذبہ رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعوتی میدان میں اپنی محنت کی قبولیت اور اس کے مؤثر ہونے کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔ 10:… دعوت کا دسواں معنی حکم دینا ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ ﴾ [الحدید: ۸] ’’اور تمہیں کیاہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں رکھتے ، جب کہ رسول تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم رب پر ایمان لاؤ۔‘‘ کاروانِ دعوت میں شامل ہونے والا جب تک امیر کا حکم نہیں مانتا اور جو اس کو ذِمہ داری تفویض کی گئی ہو اس کا خیال نہیں رکھتا تو وہ کبھی بھی دعوت کے میدان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ 11… اسی طرح دعوت کا لفظ عبادت کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: