کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 69
اللّٰہَ…))[1] ’’وہ آدمی جسے منصب و جمال والی عورت بلاتی ہے (اور اس سے برائی کی طلب کرتی ہے) لیکن وہ کہے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔‘‘ 2:… دعوت کا دوسرا معنی ضیافت اور مہمان نوازی بھی ہے۔ عربی زبان میں کہا جاتا ہے کہ کُنَّا فِی دَعْوَۃِ فُلَانٍ یعنی ہم فلاں شخص کی دعوت میں تھے، فلاں شخص نے ہماری مہمان نوازی کی اور ضیافت کا بندوبست کیا، جس وجہ سے ہمیں اس کے پاس جانا ہوا۔ انبیاء اور رُسل کی دعوت کے آغاز سے لے کر آج تک ہمیشہ وہی دعوت کامیاب ہوئی جس میں مخاطبین کا احترام ملحوظ رکھا گیا، اخلاقیات کا اہتمام کیا گیا، اپنائیت کا جذبہ رکھا گیا اور انہیں یہ ثابت کیا گیا کہ میں آپ کا ہمدرد ہوں اور آپ کا خیرخواہ ہوں۔ اس لیے انبیاء اور رُسل کا بھی یہ طریقہ رہا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی یہ طریقہ رہا۔ جتنے بھی نیک اور صالح لوگ ہیں ان کو اس بات سے غرض نہیں ہوتی کہ کوئی کیا کہتا اور کیا کرتا ہے، بلکہ انہیں صرف اس بات سے غرض ہوتی ہے کہ کسی طریقے سے یہ مبارک پیغام فلاں کے دِل میں اُتر جائے اور وہ اللہ کے قریب ہو جائے اور تقربِ الٰہی کے حصول کے بعد خود بھی اس پیغام کو لوگوں تک پھیلانے لگے۔ 3:… دعوت کا تیسرا معنی جو عربی لغت میں استعمال ہوتا ہے، وہ ہے قربت۔ کوئی بھی دعوت اپنا مقام کسی کے دِل میں اس وقت تک نہیں بنا سکتی جب تک دعوت دینے والے کو دو چیزیں میسر نہ ہوں: ایک اللہ کی قربت، کہ وہ اللہ کے قریب ہونا چاہتا ہے اور دوسرا وہ لوگوں کے قریب ہو کر، ان کے ساتھ مل جل کر ان کے معاملات کو درست کرنے کے لیے خوبصورت انداز اور اچھا رویہ اپناتا ہے اور اس کی روشنی میں ان کی اصلاح کرتا ہے۔ اس لیے عربی زبان میں ایک لفظ بولا جاتا ہے کہ ھُوَ مِنِّی دَعْوَۃُ الرَّجُلِ ’’فلاں شخص میرا بہت قریبی ہے۔‘‘ یعنی میں اس کو جو کچھ بھی کہوں گا، وہ اس کو تسلیم کرے گا۔ وہ سمجھتا ہے کہ میری گفتگو واقعتاً [1] صحیح البخاری: ۱۴۲۳۔ صحیح مسلم: ۱۰۳۱.