کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 628
قَالَ: یَا رَبِّ رَجَوْتُکَ وَخِفْتُ النَّاسَ)) [1] ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ روزِقیامت بندے سے ہر چیز کے متعلق سوال کرے گا، یہاں تک کہ اس سے یہ بھی پوچھے گا کہ جب تو نے برائی ہوتے دیکھی تو پھر اس کو روکنے میں تجھے کیا چیز مانع تھی؟ سو جب اللہ تعالیٰ بندے پر اپنی حجت پوری کر دے گا تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے تجھ سے (معافی کی) کی اُمید تھی اور میں لوگوں سے ڈر گیا تھا۔‘‘ امام ابن عابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: مَنْ یَشْتَغِلُ بِمَا لَا یَعْنِیہِ فَالْقَائِلُ لِمَنْ یَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ: أَنْتَ فُضُولِیٌّ، یُخْشٰی عَلَیْہِ الْکُفْرَ فَتْحٌ۔[2] ’’جو شخص خود تو بے مقصد اور فضول کاموں میں مشغول رہتا ہو لیکن نیک کام کی ترغیب دینے والے کو کہے کہ تُو تو فضول کام کرتا ہے۔ تو خدشہ ہے کہ ایسا شخص کفر کا مرتکب نہ ہو جائے۔‘‘ [1] الدر المختار: ۵-۱۰۶. [2] صحیح الجامع: ۱۸۱۸۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۹۲۹.