کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 625
قبول نہ کیا جائے۔‘‘ معلوم ہوا کہ جو شخص امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ادا نہیں کرتا، وہ اپنی دعا کی قبولیت سے محروم ہو جاتا ہے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: اَلْإِسْلَامُ ثَمَانِیَۃُ أَسْہُمٍ: الصَّلَاۃُ سَہْمٌ وَالزَّکَاۃُ سَہْمٌ وَالْجِہَادُ سَہْمٌ وَالْحَجُّ سَہْمٌ وَصَوْمُ رَمَضَانَ سَہْمٌ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ سَہْمٌ وَالنَّہْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ سَہْمٌ، وَقَدْ خَابَ مَنْ لَا سَہْمَ لَہٗ۔[1] ’’اسلام کے آٹھ حصے ہیں: نماز ایک حصہ ہے، زکوٰۃ ایک حصہ ہے، جہاد ایک حصہ ہے، حج ایک حصہ ہے، ماہِ رمضان کے روزے ایک حصہ ہے، امر بالمعروف ایک حصہ ہے اور نہی عن المنکر ایک حصہ ہے۔ وہ شخص ناکام و نامراد ہے جس کے پاس کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘ 3.بہترین اُمت سے خارج: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ((لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَرْحَمْ صَغِیرَنَا، وَیُوَقِّرْ کَبِیرَنَا، وَیَأْمُرْ بِالمَعْرُوفِ وَیَنْہَ عَنِ المُنْکَرِ)) [2] ’’وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کیا، ہمارے بڑوں کی عزت نہ کی، نیکی کا حکم نہ دیا اور برائی سے منع نہ کیا۔‘‘ 4. اندھا عذاب اور جہالت کا ظہور: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الظَّالِمَ فَلَمْ یَأْخُذُوا عَلٰی یَدَیْہِ، أَوْشَکَ أَنْ [1] مصنف ابن أبی شیبۃ: ۱۱/۷. [2] سنن الترمذی: ۸۹۲۱.