کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 624
امر بالمعروف ونہی عن المنکرنہ کرنے کی قباحتیں 1. ہلاکت وعذاب: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً ﴾ [الأنفال: ۲۵] ’’اور تم ایسے وبال سے بچو کہ جو خاص کر صرف ان ہی لوگوں پر واقع نہیں ہو گا جنہوں نے ظلم کیا۔‘‘ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلَتَنْھَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ،أَو ْلَیُوْشِکَنَّ اللّٰہُ أَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عِقَاباً مِنْہُ ثُمَّ تَدْعُوْنَہٗ فَلَایَسْتَجِیْبُ لَکُمْ))[1] ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے !تم ضرور بہ ضرور اچھائی کاحکم دیتے رہو گے یالازمی طورپر برائی سے روکاکروگے، وگرنہ بعیدنہیں کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی طرف سے عذاب نازل فرمادے،پھرتم اس سے دعائیں کیاکروگے تووہ قبول نہیں فرمائے گا۔‘‘ 2. دعا قبول نہیں ہوتی: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ قَبْلَ أَنْ تَدْعُوا فَلَا یُسْتَجَابَ لَکُمْ)) [2] ’’نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو، اس سے پہلے کہ تم دعا کرو تو تمہاری دعا کو [1] سنن الترمذی: ۲۱۶۹۔ صحیح الجامع: ۷۰۷۰. [2] سنن ابن ماجہ: ۴۰۰۴.