کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 623
’’اپنی زبان کے ساتھ اچھی بات کہہ دے۔‘‘ میں نے کہا: اگر اس کو بات کرنے پر قدرت نہ ہو اور اس کی زبان بھی اس کی بات صحیح طور پر سمجھا نہ سکتی ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فَلْیُعِنْ مَغْلُوبًا)) ’’پھر وہ مغلوب (لاچار اور بے بس) کی مدد کرے۔‘‘ میں نے کہا: اگر وہ کمزور ہو اور اس کے پاس قوت نہ ہو تو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فَلْیَصْنَعْ لِأَخْرَقَ)) ’’کسی اناڑی کو کوئی کام سکھا دے۔‘‘ میں نے کہا: اگر وہ خود اناڑی ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا تُرِیدُ أَنْ تَدَعَ فِی صَاحِبِکَ خَیْرًا؟)) قَالَ: ((یَدَعُ النَّاسَ مِنْ أَذَاہُ)) ’’تم اپنے ساتھی کے لیے کوئی نیکی کا کام نہیں چھوڑنا چاہتے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی طرف سے پہنچنے والی تکالیف سے لوگوں کو محفوظ رکھے۔‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بے شک یہ تمام اعمال ہی بہت آسان ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ، مَا مِنْہُنَّ خَصْلَۃٌ یَعْمَلُ بِہَا عَبْدٌ یَبْتَغِی بِہَا وَجْہَ اللّٰہِ إِلَّا أَخَذَتْ بِیَدِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَلَمْ تُفَارِقْہُ حَتّٰی تُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ)) [1] ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! ان میں سے جس بھی خصلت پر بندہ عمل پیرا ہو گا اور اس عمل کا مقصد فقط رضائے الٰہی کا حصول ہو تو قیامت کے دن یہ خصلت اس کا ہاتھ پکڑ لے گی اور اس سے جدا نہیں ہو گی، یہاں تک کہ اس کو جنت میں داخل کر دے۔‘‘ [1] المستدرک للحاکم: ۲۱۲۔ صحیح ابن حبان: ۳۷۳۔ صحیح الترغیب والترہیب: ۲۳۱۸.