کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 622
عَدَدَ تِلْکَ السِّتِّینَ وَالثَّلَاثِمِائَۃِ السُّلَامٰی، فَإِنَّہٗ یَمْشِی یَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَہٗ عَنِ النَّارِ)) [1] ’’یقینا بنی آدم میں سے ہر انسان کو تین سو ساٹھ جوڑوں پر پیدا کیا گیا ہے۔ سو جس نے تکبیر کہی، اللہ کی حمد کہی، اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا، اللہ کی تسبیح کہی، اللہ سے مغفرت مانگی، لوگوں کے راستے سے کوئی پتھر ہٹایا یا لوگوں کے راستے سے کانٹا یا ہڈی (ہٹائی)، نیکی کا حکم دیا یا برائی سے منع کیا، ان تین سو ساٹھ جوڑوں کی تعداد کے برابر، تو وہ اس دِن اس طرح چلے گا کہ وہ اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے دُور کر چکا ہو گا۔‘‘ 12. جنت میں داخلے کا سبب: ابوکثیر الزبیدی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے کہ جس کو کرنے سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ)) ’’تم اللہ پر ایمان لاؤ۔‘‘ (ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایمان کے ساتھ عمل بھی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یَرْضَخُ مِمَّا رَزَقَہُ اللّٰہُ)) ’’آدمی اس چیز میں سے (اللہ کی راہ میں) لٹائے جو اللہ نے اس کو دیا ہے۔‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر وہ شخص تہی دست ہو اور اس کے پاس کوئی چیز نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یَقُولُ مَعْرُوفًا بِلِسَانِہٖ)) [1] صحیح مسلم : ۱۰۰۷.