کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 620
8. انبیاء علیہم السلام کا طریقہ: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ﴾ [النحل: ۳۶] ’’اور یقینا ہم نے ہر اُمت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔‘‘ 9. فوز وفلاح کا راستہ: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴾ [آل عمران: ۱۰۴] ’’اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے کہ جو بھلائی کی دعوت دے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ 10. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے حصول کا ذریعہ: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ أَہْلَ الْمَعْرُوفِ فِی الدُّنْیَا ہُمْ أَہْلُ الْمَعْرُوفِ فِی الْآخِرَۃِ، وَإِنَّ أَہْلَ الْمُنْکَرِ فِی الدُّنْیَا أَہْلُ الْمُنْکَرِ فِی الْآخِرَۃِ)) [1] ’’یقینا جو لوگ دنیا میں اچھے کام کرتے ہیں وہ آخرت میں اچھا بدلہ پائیں گے اور جو دنیا میں برے کام کرتے ہیں وہ آخرت میں برا بدلہ پائیں گے۔‘‘ 11. جہنم سے آزادی کا سبب: سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں [1] صحیح الجامع: ۲۰۳.