کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 618
﴿ الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَللّٰهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ ﴾ [الحج: ۴۱] ’’وہ لوگ ہیں کہ جن کے ہم اگر زمین میں پاؤں جما دیں تو یہ پوری پابندی سے نمازیں قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں، نیکی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں۔ تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے۔‘‘ 5. بہترین وُزراء کی علامت: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی لَمْ یَبْعَثْ نَبِیًّا وَلَا خَلِیفَۃً إِلَّا وَلَہٗ بِطَانَتَانِ، بِطَانَۃٌ تَأْمُرُہٗ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَاہُ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَبِطَانَۃٌ لَا تَأْلُوہُ خَبَالاً وَمَنْ یُوقَ بِطَانَۃَ السُّوئِ فَقَدْ وُقِيَ)) [1] ’’یقینا اللہ تعالیٰ نے جو بھی نبی اور خلیفہ مبعوث فرمایا اس کے دو خفیہ مشیر ہوتے تھے، ایک مشیر اس کو نیک کام کا کہتا اور برائی سے منع کرتا اور (دوسرا) مشیر اس کی بربادی میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھتا تھا، جو برے ہم نشین سے بچا لیا جاتا وہ (ہر آفت و ضلالت) سے ہی محفوظ ہو جاتا۔‘‘ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا اسْتُخْلِفَ خَلِیفَۃٌ إِلَّا لَہٗ بِطَانَتَانِ: بِطَانَۃٌ تَأْمُرُہٗ بِالخَیْرِ وَتَحُضُّہٗ عَلَیْہِ، وَبِطَانَۃٌ تَأْمُرُہٗ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّہٗ عَلَیْہِ، وَالمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللّٰہُ)) [2] ’’جب بھی کوئی شخص خلیفہ بنایا جاتا ہے تو اس کے دو خفیہ مشیر ہوتے ہیں: ایک اس کو بھلائی کا مشورہ دیتا ہے اور اس کی ترغیب دیتا ہے جبکہ دوسرا اسے برائی کا [1] سنن الترمذی: ۲۳۶۹۔ صحیح الجامع: ۵۵۸۰۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۶۴۱. [2] صحیح البخاری: ۶۶۱۱.