کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 614
امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے فضائل 1. مومنوں کی امتیازی صفت: اللہ تعالیٰ اپنے پیارے مومن بندوں کی صفات کا تذکرہ ان الفاظ میں فرماتا ہے: ﴿ اَلتَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللّٰهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ ﴾ [التوبۃ: ۱۱۲] ’’توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد بیان کرنے والے، (اللہ کی خاطر) زمین میں گردش کرنے والے، رکوع کرنے والے، سجود کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے، اور (ایسے) مومنوں کو (جنت کی) بشارت دے دیجیے۔‘‘ اور اس کے مقابلے میں منافقوں کی روِش کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا: ﴿ اَلْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمُنْكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمْ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴾ [التوبۃ: ۶۷] ’’منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں، یہ برائی کا حکم دیتے ہیں، نیکی سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھ (اچھے کاموں سے) روکے رکھتے ہیں، یہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی ان کو بھلا دیا۔ یقینا منافقین ہی فاسق ہیں۔‘‘ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ رَاٰی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ، فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ، فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ، وَذَالِکَ أَضْعَفُ الْإِیمَانِ)) [1] [1] صحیح مسلم: ۴۹.