کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 613
اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے گا۔‘‘ مذکورہ آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نماز و زکوٰۃ کے تذکرے سے پہلے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا ذِکر فرمایا ہے، جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہمہ وقت اس فریضے کی انجام دہی: سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِیَّاکُمْ وَالْجُلُوْسَ بِالطُّرُقَاتِ)) ’’راستوں میں بیٹھنے سے اجتناب کیا کرو۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم مجالس لگاکر گپ شپ کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فَإذَا أَبَیْتُمْ إلاَّ الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوْا الطَّرِیْقَ حَقَّہٗ)) ’’جب تم نے بیٹھنا ہی ہو تو راستے کو اس کا حق دو۔‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: راستے کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((غَضُّ الْبَصَرِ وَکَفُّ الْأَذٰی وَرَدُّ السَّلامِ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّہْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ)) [1] ’’نظر کو جھکانا، تکلیف دہ چیز کو ہٹانا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔‘‘ اندازہ کیجیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ اگر عام گپ شپ کی بھی مجلس لگی ہو تو اس میں بھی یہ فریضہ فراموش نہیں کرنا چاہیے بلکہ تب بھی آپس میں نیکی کی ترغیب دینے اور برائی سے اجتناب کی تلقین کرنے کا ضرور اہتمام کرنا چاہیے۔ [1] صحیح البخاری: ۲۴۶۵۔ صحیح مسلم: ۵۲۸.